Sunday, 6 March 2016

عورت

عورت کو کبھی ایک سمجھے نا زمانہ
عورت کبھی حوا کبھی مریم کبھی زہرہ
نسواں بل کیا منظور ہوا مرد حضرات تو مظلوم ہی ہو گئے
تعلق تو میرا بھی صنف نازک سے ہے مگر اس بل کی روشنی میں کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں
نام نہاد آزاد خیال عورتیں حقوق کے نام پر جو کچھ طلب کرتی ہیں واللہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں چاہیے
ہمیں اپنا دین اپنی اقدار سب قبول ہے دین کی حدود میں ہی ہماری آزادی ہے تحفظ ہے ۔
اور یقین جانیے سائن بورڈ پر نمائش کرتی عورت ہم نہیں ہیں
سٹیج پر کلچر کے نام پر رقص کرتی عورت ہم نہیں ہیں
چراغ خانہ ہیں شمع محفل ہم نہیں ہیں
عورت تو ماں ،ہے بہن ہے بیٹی ہے بیوی ہے اپنے باپ بھائی شوہر کا مان ہے انکی عزت ہے اور واللہ جو حقوق ہمیں اسلام نے دیے دنیا کا کوئی قانون کوئی ملک کوئی عدالت ہمیں نہیں دلا سکتی ۔ہمیں پسند ہے ہم اپنے محافظوں کے سایے میں سفر کریں اپنے گھروں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں
اور حقوق کے نام پر ابلیسی طاقتوں کے درپردہ مقاصد کو پہچانے ۔جس میں پہلا مقصد کام کے لیے لیبر  بڑھانا ،فحاشی کو عام کرنا ،سروں سے چادریں کھینچ کر سرے عام نمائش کروانا
ہم اسلام کی شہزادیاں ہیں ۔اور اس مقام پر راضی اور خوش ہیں جو ہمیں ہمارے رب نے عطا کیا
اللّه آپ کا حامی و ناصر ہو
اللّه کی بندی سیدہ ام ہانی